مہنگائی 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، دو سال کی بلند ترین سطح

پاکستان میں مہنگائی کی شرح اپریل میں بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ تقریباً دو سال کی بلند ترین سطح ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق مہنگائی میں یہ اضافہ عالمی سپلائی شاکس، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے باعث ہوا ہے، جس کے نتیجے میں توانائی، ٹرانسپورٹ اور خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اپریل میں مہنگائی دوبارہ دوہرے ہندسے میں داخل ہو گئی، جو جولائی 2024 کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ٹیکسوں میں اضافے اور ایندھن کی مکمل قیمت صارفین تک منتقل کرنے کے فیصلے نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔
پی بی ایس کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ڈیزل کی قیمت تقریباً 93 فیصد بڑھ گئی۔ بجلی کی قیمتیں بھی 33 فیصد زیادہ رہیں، جس نے عام شہری کی زندگی پر براہ راست اثر ڈالا۔
اداکاروں کے بڑھتے پروٹوکولز سے فلم کاسٹنگ مشکل ہوگئی، سید نور
رپورٹ میں بتایا گیا کہ خوراک کی مہنگائی بھی تیزی سے بڑھی ہے، جس میں ٹماٹر 75 فیصد، پیاز 42 فیصد اور گندم تقریباً 40 فیصد مہنگی ہوئی۔ آٹے کی قیمت میں بھی 30 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 38 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ٹرانسپورٹ گروپ کی مہنگائی 30 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ رہائش، پانی، بجلی اور گیس کے اخراجات میں بھی 17 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
اسٹیٹ بینک مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کر رہا ہے، تاہم حکومتی پالیسیوں اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دباؤ برقرار ہے۔
آئی ایم ایف نے حکومت کو غریب طبقے کی مدد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی معاونت بڑھانے کی ہدایت بھی دی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو آنے والے مہینوں میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔














